شناخت

مستقبل کی فکر تھی اسے
شہرت كے خواب دیکھے تھے اس نے
خدا نہیں تھا اسکا کوئی
خود کا ہی خدا تھا وہ

جدوجہد جتنی بھی کی
کافی نا تھی وہ اسکے لیے
جذبہ ے  جنون تھا اس میں
خود کی اک شناخت بنانا چاہتا تھا وہ

صبر کیا ہوتا ہے
خبر نا تھی یہ اسے
زندگی کی بلندیوں کو
چھونا چاہتا تھا وہ

پہچان رکھنی تھی اسے
ممتاز  شخصیتوں سے
مالی دنیا کے بادشاہوں میں
شامل ہونا چاہتا تھا وہ

انتظار تھا بس اس روز کا اسے
جس روز نام چھپنا تھا مالی رسالوں میں
صرف ملک میں نہیں، باہر بھی نام کمانا تھا اسے
بس اپنی ایک شناخت بنانی تھی اسے، اپنی ایک شناخت بنانی تھی اسے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s